اہلبیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے نئے صدر ڈاکٹر حسن روحاني نے کہا ہے کہ حکومت عوام سے کيے گئے وعدے پورے کرے گي، جبکہ ملک کو درپيش مسائل اور ان کے حل کے لئے حکومتي اقدامات سے بھي عوام کو آگاہ کيا جائے گا۔
ان خيالات کا اظہار اسلامي جمہوريہ ايران کے نو منتخب صدر ڈاکٹر حسن روحاني نے عہدہ صدارت سنبھالنے کے بعد پہلي پريس کانفرنس کے دوران کيا، انہوں نے پريس کانفرنس ميں ملکي اور غير ملکي نامہ نگاروں کے سوالوں کے تفصيل سے جوابات ديے۔
ڈاکٹر حسن روحاني نے پريس کانفرنس کے آغاز ميں سبھي ملکي اور غيرملکي نامہ نگاروں کا شکريہ ادا کيا جنہوں نے چودہ جون کے انتخابات سے لے کر اب تک يعني تقريب حلف برداري اور توثيق کي خبروں سے دنيا والوں کو آگاہ کيا، اس کے علاوہ انہوں نے عيد سعيد فطر کي مناسبت سے تمام مسلمانوں کو پيشگي مبارکباد پيش کي۔
صدر مملکت نے کہا کہ آج نامہ نگاروں کو يہاں دعوت دينے کا مقصد اپنے وعدے کي تکميل تھا-
انہوں نے کہا کہ ہم نے انتخابي مہم کے دوران عوام سے وعدہ کيا تھا کہ ہماري حکومت، عوام کی جواب دہ ہوگي اور آج کي يہ پريس کانفرنس اس وعدے کي تکميل کا پہلا مرحلہ ہے۔
صدر حسن روحاني نے کہا کہ ميڈيا اور ذرائع ابلاغ حکومت اور عوام کے درميان بہترين رابطہ ثابت ہوسکتے ہيں.
ڈاکٹر روحاني نے چودہ جون کے صدارتي انتخابات کو ايران ميں جمہوريت اور ڈيموکريسي کے استحکام سے تعبير کيا اور کہا کہ اس اليکشن نے پوري دنيا کو يہ پيغام ديا کہ ايران کے عوام دوطرفہ احترام اور عزت کي بنياد پر دنيا کے ساتھ تعلقات کو برقرار رکھنا چاہتے ہيں۔
اقتصاد کے فروغ کے حوالے سے حکومتي اقدامات کے حوالے سے پوچھے گئے ايک سوال کے جواب ميں ڈاکٹر حسن روحاني کا کہنا تھا کہ ہم نے آيندہ چار سوالوں کے لئے لائحہ عمل تيار کيا ہے، جس کا سب سے پہلا قدم موجودہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے سبسڈي کے نظام کو بہتر بنانا ہے۔
آمريکي حکام کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کے حوالے سے سوال کے جواب ميں صدر مملکت نے کہا کہ آمريکي حکام نے حاليہ انتخابات کے حوالے سے کوئي مناسب بيان نہيں ديا، اور وائيٹ ہاؤس کے حاليہ بيان سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ آمريکي حکمرانوں نے ايراني قوم کو اب تک صحيح نہيں پہچانا ہے۔
ايٹمي سرگرميوں کے حوالے سے پوچھے گئے نامہ نگار کے سوال کے جواب ميں ڈاکٹر حسن روحاني نے کہا کہ ايران کا ايٹمي مسئلہ کسي خاص پارٹي کے ساتھ مربوط نہيں ہے بلکہ اس حوالے سے ہمارے اور گذشتہ حکومت کا موقف ايک جيسا ہے-
ڈاکٹر حسن روحاني نے مزيد کہا ايٹمي سرگرميوں سے متعلق ہمارا موقف صاف اور روشن ہے کيونکہ پرامن مقاصد کے لئے ايٹمي ٹيکنالوجي کا حصول ناگزير ہے، البتہ ہم ايٹمي ہھتياروں کے خلاف ہيں، ہمارا نظريہ يہ ہے کہ مذاکرات اور گفتگو کے ذريعے سے اس مسئلے کو حل کيا جا سکتا ہے۔
صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحاني نے کہا کہ آمريکي حکمرانوں کے قول و فعل ميں مکمل تضاد پايا جاتا ہے، کيونکہ ايک طرف سے وہ نيک نيتي کا دعويٰ کر رہے ہيں اور دوسري طرف وہ پابنديوں کے ذريعہ ہمارے اوپر دباؤ ڈال رہے ہيں، انہوں نے کہا کہ ہميں آمريکيوں کے عملي اقدامات کو ديکھ کر قدم اٹھانا ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲
ان خيالات کا اظہار اسلامي جمہوريہ ايران کے نو منتخب صدر ڈاکٹر حسن روحاني نے عہدہ صدارت سنبھالنے کے بعد پہلي پريس کانفرنس کے دوران کيا، انہوں نے پريس کانفرنس ميں ملکي اور غير ملکي نامہ نگاروں کے سوالوں کے تفصيل سے جوابات ديے۔
ڈاکٹر حسن روحاني نے پريس کانفرنس کے آغاز ميں سبھي ملکي اور غيرملکي نامہ نگاروں کا شکريہ ادا کيا جنہوں نے چودہ جون کے انتخابات سے لے کر اب تک يعني تقريب حلف برداري اور توثيق کي خبروں سے دنيا والوں کو آگاہ کيا، اس کے علاوہ انہوں نے عيد سعيد فطر کي مناسبت سے تمام مسلمانوں کو پيشگي مبارکباد پيش کي۔
صدر مملکت نے کہا کہ آج نامہ نگاروں کو يہاں دعوت دينے کا مقصد اپنے وعدے کي تکميل تھا-
انہوں نے کہا کہ ہم نے انتخابي مہم کے دوران عوام سے وعدہ کيا تھا کہ ہماري حکومت، عوام کی جواب دہ ہوگي اور آج کي يہ پريس کانفرنس اس وعدے کي تکميل کا پہلا مرحلہ ہے۔
صدر حسن روحاني نے کہا کہ ميڈيا اور ذرائع ابلاغ حکومت اور عوام کے درميان بہترين رابطہ ثابت ہوسکتے ہيں.
ڈاکٹر روحاني نے چودہ جون کے صدارتي انتخابات کو ايران ميں جمہوريت اور ڈيموکريسي کے استحکام سے تعبير کيا اور کہا کہ اس اليکشن نے پوري دنيا کو يہ پيغام ديا کہ ايران کے عوام دوطرفہ احترام اور عزت کي بنياد پر دنيا کے ساتھ تعلقات کو برقرار رکھنا چاہتے ہيں۔
اقتصاد کے فروغ کے حوالے سے حکومتي اقدامات کے حوالے سے پوچھے گئے ايک سوال کے جواب ميں ڈاکٹر حسن روحاني کا کہنا تھا کہ ہم نے آيندہ چار سوالوں کے لئے لائحہ عمل تيار کيا ہے، جس کا سب سے پہلا قدم موجودہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے سبسڈي کے نظام کو بہتر بنانا ہے۔
آمريکي حکام کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کے حوالے سے سوال کے جواب ميں صدر مملکت نے کہا کہ آمريکي حکام نے حاليہ انتخابات کے حوالے سے کوئي مناسب بيان نہيں ديا، اور وائيٹ ہاؤس کے حاليہ بيان سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ آمريکي حکمرانوں نے ايراني قوم کو اب تک صحيح نہيں پہچانا ہے۔
ايٹمي سرگرميوں کے حوالے سے پوچھے گئے نامہ نگار کے سوال کے جواب ميں ڈاکٹر حسن روحاني نے کہا کہ ايران کا ايٹمي مسئلہ کسي خاص پارٹي کے ساتھ مربوط نہيں ہے بلکہ اس حوالے سے ہمارے اور گذشتہ حکومت کا موقف ايک جيسا ہے-
ڈاکٹر حسن روحاني نے مزيد کہا ايٹمي سرگرميوں سے متعلق ہمارا موقف صاف اور روشن ہے کيونکہ پرامن مقاصد کے لئے ايٹمي ٹيکنالوجي کا حصول ناگزير ہے، البتہ ہم ايٹمي ہھتياروں کے خلاف ہيں، ہمارا نظريہ يہ ہے کہ مذاکرات اور گفتگو کے ذريعے سے اس مسئلے کو حل کيا جا سکتا ہے۔
صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحاني نے کہا کہ آمريکي حکمرانوں کے قول و فعل ميں مکمل تضاد پايا جاتا ہے، کيونکہ ايک طرف سے وہ نيک نيتي کا دعويٰ کر رہے ہيں اور دوسري طرف وہ پابنديوں کے ذريعہ ہمارے اوپر دباؤ ڈال رہے ہيں، انہوں نے کہا کہ ہميں آمريکيوں کے عملي اقدامات کو ديکھ کر قدم اٹھانا ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲